اندھیرا

320

رضیہ، سجاد ظہیر کی شریک حیات ہی نہیںنادم واپسیں شریک سفر بھی رہیں۔ اس سیّد زادے ،امیر زادے نے جب ترقی پسند تحریک کا علم اٹھایا تو اسے سماج اور سرکار کے ہاتھوں جن جن صعوبتوں کا سامنا رہا، وہ ایک طویل داستان ہے۔ایسے میں درون خانہ رضیہ بطور ایک وفاشعار بیوی کے اور بیرون خانہ ایک رفیق بن ان کی توانائیاں دوچند کرتی رہیں۔ بقول نور ظہیر ’’امی نے اپنی ساری ذمہ داریاں، وہ بھی جو اصل میں ابا کے حصے میں آنی چاہیےتھیں ، بڑی ایمانداری اور سچائی سے نبھائیں‘‘۔ جب انکی بیٹی نجمہ ظہیر نے ان کی بے اعتنائی کا گلہ کیاتو انھوں نے کہا’’اگر ہم اپنے کام میں خود غرض نہ ہوتے تو یہ نوکری، یہ زندگی بھر کی جدوجہد ،تمہارے اباکا جیل کا سفر، تم لوگوں کی پڑھائی لکھائی ہمیں ایسا مارتی کہ ہم کھڑے نہیں ہوسکتے تھے ہماری قوت ارادی ہماری طاقت ہے ہمارا لکھنا ہمیں زندہ رکھتا ہے‘‘۔ رضیہ سجاد ظہیر کا ’’جواب شکوہ‘‘ ان کی جدوجہد کی داستان کا ملخص ہے۔ یقینا اگر سید سجاد ظہیر پورے قد سے رجعت پسند سرکار اور سماج کے سامنے کھڑے رہے تو اس میں رضیہ سجاد ظہیر کی دلیرانہ رفاقت کا بھی حصہ ہے۔
یہ کتاب پہلے پہل’’اللہ دے بندہ لے ‘‘ کے نام سے شائع ہوئی تھی۔ پیش نظر کتاب کا نام’’اندھیرا ‘‘ اس کے ایک باب سے لیا گیا ہے۔ قارئین کو اس کتاب کے ہرصفحے، ہر سطر اور ہر لفظ سے رضیہ سجاد ظہیرکی شخصیت اورجدوجہد کی جھلک نظر آئے گی، محسوس کرنے کی بات ہے۔

Category:
Open chat