شادباد منزل مراد

540

کسی قوم کی ترقی کام معیار اور حوالہ اس کے طلبہ ہوتے ہیں۔ ان کے ذہن کی روشنی اور کردار کی قوت سے قومیں آگے بڑھتی اور نام پاتی ہیں۔ پاکستان کا استحکام اور ارتقاء بھی بڑی حد تک طلبہ اور نوجوانوں ہی سے وابستہ ہے۔ وہ طلبہ اور نوجوان جو نہ صرف تخلیقی ذہن رکھتے ہوں، باکردار ہوں بلکہ پاکستانیت کا گہرا شعور بھی رکھتے ہوں۔ کھرے اور پکّے مسلمان اور پُر جوش پاکستانی ہوں۔ گویا اقبالؒ کے الفاظ میں’’ خبر‘‘ نظر اور اذانِ سحر میں یکتا ہوں؎
کِیا تو نے صحرا نشینوں کو یکتا
خبر میں، نظر میں اذانِ سحر میں
علم ذریعہ ہے اور کردار مطلوب و مقصود ۔ علم سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی ۔ کردار کا تعلق تربیت سے ہے۔ اس لیے تربیت کی اہمیت رسمی تعلیم سے بھی زیادہ ہے ۔ محض علم تو دو دھاری تلوار ہے ۔ اس سے فائدہ بھی ہو سکتا ہے اور نقصان بھی ۔ تربیت سے علم نفع کا سبب بنتا ہے۔ اس لیے اللّٰہ تعالےٰ سے جب علم کی دعا کی جاتی ہے تو علم نافع کی دعا کی جاتی ہے۔ تعلیم راستہ ہے کردارِ منزل۔ بقول اقبال ؒ
نگہ بلند، سخن دلنواز، جان پُر سوز
یہی ہے رختِ سفر، میرِ کارواں کے لیے

Category:
Open chat